جان لیجئے کہ انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا، کسی پر آسمان سے پتھر برسائے گئے، تو کسی کو طوفان بہا لے گیا۔ قرآنِ مجید میں ان ساری قوموں کے واقعات لکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں ڈرایا جا رہا ہے۔ اے کاش! ہم ڈرنے والے بن جائیں، سمجھنے والے بن جائیں، نصیحت قبول کرنے والے بن جائیں۔ اے کاش! ہمیں ایسی آنکھ، ایسا دل، ایسی سوچ اور ایسا تفکر نصیب ہو جائے کہ ہم نصیحت قبول کرنے والے بن جائیں۔
مت گناہوں پہ ہو بھائی بے باک تُوبھول مت یہ حقیقت کہ ہے خاک تُو
تھام لے دامن شاہِ لولاک تُوسچی تَوبہ سے ہو جائے گا پاک تُو
جو بھی دنیا سے آقا کا غم لے گیاوہ تو بازی خدا کی قسم لے گیا
ساتھ میں مصطَفٰے کا کرم لے گیاخُلد کی وہ سند لَاجَرَمۡلے گیا
(وسائلِ بخشش، ص 356)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
”نیکی کی دعوت “ کے (10)حروف کی نسبت سے سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے منقول (10)مدنی پھول
(1) ۔۔۔ایک شخص نے جنگ پر جانے سے قبل حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:”اے ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ! مجھے کچھ