کا مال ضائع ہوگیا، خبردار! علم حاصل کرو کیونکہ علم سکھانے اورسیکھنے والا اجر میں برابرہیں اوران دونوں کے علاوہ کسی شخص میں بھلائی نہیں۔
(حلیۃ الاولیاء، الرقم 35ابی الدَرْدَاء ، الحدیث:695، ج1،ص273)
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا خوفِ خدا اور دنیا سے بے رغبتی دلانے والا بیان سن کر لوگ دہاڑیں مار مار کر رونے لگتے، آپ کا بیان اس قدر سوزو گداز والا ہوتا جو تاثیر کا تیر بن کر شرکائے اجتماع کے دلوں میں پیوست ہوتا چلا جاتا ۔ ان کی ہچکیاں بندھ جاتیں، دنیا سے بے رغبتی کا جذبہ ان کے دلوں میں پیدا ہونے لگتا۔
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! آیئے حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس نیکی کی دعوت پر غور تو کریں، ہم بھی تو مال جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ہم نے بھی تو دنیا کی آسائشوں کو جمع کرنا شروع کر رکھا ہے۔ذرا غور تو کریں کہ کہاں گئے وہ لوگ اور وہ قومیں جن کے رعب و دبدبہ کی داستانیں ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں؟ یہ سب قومیں کہاں گئیں؟ اَللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والے لوگ کہاں چلے گئے؟