سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ
اور نیکی کی دعوت
جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام کے شہر دمشق پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ ناز و نعم کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور آسائش و آرام کے دلدادہ ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے اندازِ زندگی دیکھ کر کہ وہ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں بہت پریشان رہتے۔ ایسے کئی واقعات ملتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دمشق کے لوگوں کو جمع کر کے ایک اجتماع کیا۔ (جیسے دعوتِ اسلامی عاشقانِ رسول پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے جمع کر کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا اہتمام کرتی ہے) اور پھر کھڑے ہو کر آپ نے ان شرکاءِ اجتماع کو نیکی کی دعوت پیش کی۔ چنانچہ،
ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایسے ہی ایک اجتماع میں فرمایا:اے اہل دمشق! تم سب دین میں اسلامی بھائی، گھروں میں ایک دوسرے کے پڑوسی اور دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہو، پھر کیا وجہ ہے کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے؟میری محنت ومشقت تمہارے علاوہ دوسروں پر صرف ہو رہی ہے، میں تمہارے علما کودنیا سے رخصت ہوتے دیکھ رہا ہوں اوریہ بھی دیکھ رہاہوں کہ تمہارے بے علم،علم حاصل نہیں کرتے۔تم رزق کی تلاش میں اپنی آخرت بھولے بیٹھے ہو۔سنو! ایک قوم نے مضبوط محلات تعمیر کئے، کثیر مال اکٹھا کیا اور لمبی لمبی امیدیں باندھیں مگر وہی محلات ان کی قبروں میں تبدیل ہو گئے، ان کی امیدوں نے انہیں دھوکے میں ڈالا اور ان