Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
50 - 70
 سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی
علم  سے محبت
جب حضرت  سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال الی الحق کا وقت قریب آیا تو ان سے عرض کی گئی کہ کچھ وصیت کیجئے۔ انہوں نے فرمایا:”بیٹھ جاؤ!“ پھر آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ جو علم اور ایمان کی تلاش میں رہتا ہے آخر پا لیتا ہے۔ چنانچہ، علم حاصل کرنا ہو تو صرف چار بندوں کے پاس جانا:سیِّدُناابو دَرْدَاء ،   سیِّدُنا سلمان فارسی، سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود اورسیِّدُنا عبداللہ بن سلام رِضۡوَانُ  اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمۡ اَجۡمَعِیۡن کے پاس۔  (المسند للامام احمد بن حنبل، حديث معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه، الحدیث: 22165 ،ج 8،ص257)
سُبۡحَانَ اللہِ!میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہکو یہ مرتبہ ایسے ہی نہیں ملا۔ اس کے لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سخت محنت کی، رات دن عبادت و ریاضت میں مصروف رہے، ہر وقت علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دنیاوی عیش و عشرت کی کبھی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ  آخرت کی فکر میں مبتلا رہے۔ 
اے کاش!سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح ہمارا بھی یہ مدنی ذہن بن جائے کہ علم دین سیکھنا ہے، عبادت کرنی ہے، نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے راہِ خدا میں سفر کرنا ہے۔ چنانچہ،