عبادت میں گزرے مری زندگانی کرم ہو کرم یا خدا یا الہٰی
مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے ہو ایمان پر خاتِمہ یا الہٰی
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے
نزدیک عالم کون؟
حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم و عمل اور اہل علم سے بہت محبت تھی۔ آپ سے علما کی پہچان کے بارے میں بہت سے اقوال مروی ہیں۔ چنانچہ،
ایک بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بندے کے عالم ہونے کی پہچان بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ”اہل علم حضرات کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا،ان کے ساتھ چلناپھرنااوران کی مجالس میں شریک ہونا آدمی کے عالم ہونے کی علامت ہے ۔“
(التاریخ الکبیرللبخاری،باب الشین،باب شریک، الحدیث:2653،ج4،ص200،بتغیرٍ)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ علمی اجتماعات میں شریک ہونے، علما کی بارگاہ میں حاضر رہنے اور ان کی خدمت کی برکت سے بندے کو علم کی دولت ملتی ہے۔ جس کے چوری ہونے کا ڈر اور خوف ہوتا ہے نہ چھن جانے کا۔ لہٰذا ہمیں کوشش کرنا چاہئے کہ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے مدنی