Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
46 - 70
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا                 ترجمۂ کنزالایمان:توجوایک ذرّہ بھر بھلائی 
یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ           کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھربرائی 
 شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾                                                کرے اسے دیکھے گا۔
اس لئے تم کسی برائی کو معمولی نہ سمجھو اورنہ ہی کسی نیکی کو حقیر جانو۔“
(الزہد الکبیرللبیہقی،الحدیث:870،ص324)
اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ بھی فرمایا کرتے کہ تین چیزیں جنہیں لوگ ناپسند کرتے ہیں مجھے بہت محبوب ہیں :(١) فقر(٢) مرض اور(٣) موت۔
(الزہد للامام احمد بن حنبل،باب زہد ابی الدَرْدَاء ،الحدیث:736،ص162،بتغیرٍ)
ایک روایت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں دیدارِ باری تعالیٰ کے شوق کی وجہ سے موت کو پسند کرتاہوں ۔ اور اپنے ربّ عَزَّ   وَجَلَّ کے حضور گڑ گڑانے کے لئے فقرکوپسندکرتا ہوں اوربیماری کو اس لئے پسندکرتاہوں تاکہ یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہو۔ (المرجع السابق ، الحدیث:811،ص172)
مَحبَّت میں اپنی گُما یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ
محبت میں اپنی گُما یا الہٰی            نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی
مرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم              ترے خوف سے یاخدا یا الہٰی
مرے دل سے دنیا کی چاہت مٹا کر         کر اُلفت میں اپنی فنا یا الہٰی
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو             کر اِخلاص ایسا عطا یا الہٰی