کوئی صبح جاتا ہے تو کوئی شام:
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے:” تم صبح کو چل پڑے ہم شام کو تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔“ یا فرماتے: ”تم شام کو چلے ہم صبح آنے والے ہیں ، موت بہت بڑی نصیحت ہے لیکن غفلت بھی بہت جلد طاری ہو جاتی ہے اور نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے، متقدمین (یعنی سلف صالحین)اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو بعد والے ہیں ان میں حِلْم و بُردْباری نام کی کوئی چیز نہیں ۔“
(الزہد لابی داؤد،باب من خبر الی الدَرْدَاء ،الحدیث:261، ص222)
سیِّدُنا ابو دَرْدَاء کی تین محبوب چیزیں:
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو میں موت کو ترجیح دیتا۔عرض کی گئی:”وہ تین چیزیں کون سی ہیں؟“ ارشادفرمایا:”(1)دن رات اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے حضور سجدے کرنا(2)سخت گرمی کے دنوں میں پیاسا رہنا(یعنی روزے رکھنا) اور(3)ان لوگوں کے حلقوں میں بیٹھناجو کلام کوعمدہ پھلوں کی طرح چنتے ہیں ۔“پھر فرمایا:”کمال درجہ کا تقویٰ یہ ہے کہ بندہ ایک ذرّہ کے معاملے میں بھی اَللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرے اورجس حلال میں ذرہ بھر حرام کا شبہ ہو اسے ترک کر دے ،اس طرح وہ اپنے اور حرام کے درمیان مضبوط آڑ بنالے گا ۔ چنانچہ، اَللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے مقدّس کلام میں بندوں کے انجام کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :