کاش ! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا
کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
آہ! سَلْبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا
آکے نہ پھنسا ہوتا میں بطورِ انساں کاش! کاش! میں مدینے کا اُونٹ بن گیا ہوتا
اُونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قُرباں میں کاش ! دستِ آقا سے نحر ہوگیا ہوتا
کاش! میں مدینے کا کوئی دُنبہ ہوتا یا سینگ والا چتکبرا مَینڈھا بن گیا ہوتا
تار بن گیا ہوتا مرشدی کے کُرتے کا مرشدی کے سینے کا بال بن گیا ہوتا
دو جہاں کی فکروں سے یوں نَجات مل جاتی میں مدینے کا سچ مچ کتّا بن گیا ہوتا
کاش! ایسا ہوجاتا خاک بن کے طیبہ کی مصطَفٰے کے قدموں سے میں لپٹ گیا ہوتا
پھول بن گیا ہوتا گلشن مدینہ کا کاش! ان کے صَحرا کا خار بن گیا ہوتا
میں بجائے انساں کے کوئی پودا ہوتا یا نخل بن کے طیبہ کے باغ میں کھڑا ہوتا
گلشن مدینہ کا کاش! ہوتا میں سبزہ یا بطورِ تنکا ہی میں وہاں پڑا ہوتا
مرغ زارِ طیبہ کا کاش! ہوتا پروانہ گرد شمع پھر پھر کر کاش! جل گیا ہوتا
کا ش ! خَر یاخَچَّر یا گھوڑا بن کر آتا اور آپ نے بھی کھو نٹے سے با ندھ کر رکھا ہوتا
جاں کنی کی تکلیفیں ذَبح سے ہیں بڑھ کر مرغ بن کے طیبہ میں ذَبح ہو گیا ہوتا
آہ! کثرتِ عصیاں ہائے! خوف دوزخ کا کاش! اِس جہاں کا میں نہ بَشَر بنا ہوتا
شور اُٹھا یہ محشر میں خُلد میں گیا عطار
گر نہ وہ بچاتے تو نار میں گیا ہوتا
(وسائلِ بخشش، ص 142)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد