تم نے علم توحاصل کیا لیکن اپنے علم پرعمل کیوں نہ کیا؟“
(المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الزہد ،باب کلام ابی الدَرْدَاء ،الحدیث:19،ج8،ص169)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!ہلاکت ہے ہلاکت! اگر سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے خوفِ آخرت کا یہ عالم ہے کہ وہ اس بات سے ڈرا کرتے کہ کہیں قیامت کے دن ان سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ علم تو حاصل کیا لیکن عمل کیوں نہ کیا؟ تو ہمارا عالم کیا ہو گا؟ مقامِ غور ہے اور یہی نہیں بلکہ سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتو یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہاے کاش! میں انسان کے بجائے اپنے گھر والوں کے لئے بکری کا ایک بچہ ہوتا اور جب ان کے پاس کوئی مہمان آتا تو یہ اس بکری کے بچے کو ذبح کر لیتے اور خود بھی کھاتے اور مہمانوں کو بھی کھلاتے۔
(الزھد لابن مبارک، باب تعظيم ذكر الله عزوجل،الحدیث:238،ص80)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام رِضۡوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمۡ اَجۡمَعِیۡناور دوسرے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے حسابِ آخرت سے ڈرنے کا یہ عالم تھا کہ وہ تمنا کیا کرتے کہ کاش! دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتے۔ اے کاش! ہمیں بھی خوفِ آخرت کی دولت نصیب ہو جائے۔ ہمارے شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہ کا اس بارے میں کیا ہی خوب کلام ہے، جسے نزع کی سختیوں، قبر کی ہو لناکیوں ،محشر کی دشواریوں اور جہنم کی خوفناک وادیوں کا تصور با ندھ کر خوفِ خداسے لرزتے ہوئے اشکبار آنکھوں سے پڑھئے: