Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
42 - 70
لمحہ بھر غوروفکر کرنے کی فضیلت:
حضرت سَیِّدَتُنا ام دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ (آخرت کے معاملات میں ) لمحہ بھر غور و فکر کرنا ساری رات کی (نفلی)عبادت سے بہتر ہے۔
(الزہد لابی داؤد،باب من خبر الی الدَرْدَاء ،الحدیث:209، ص192)
روزِ آخرت سب سے زیادہ خوف والی بات:
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آخرت کے حساب سے اس قدر ڈرتے تھے کہ فرمایا کرتے: ”مجھے سب سے زیادہ اس بات سے خوف آتا ہے کہ قیامت کے دن میرا نام لے کر پوچھا جائے:”اےعُوَیْمِر!کیاتونے علم حاصل کیا یا جاہل رہے؟“ اگر میں نے عرض کی کہ علم حاصل کیا ہے۔تو پھرمجھ سے حکم اور ممانعت والی ہرآیت ِ قرآنی کے متعلق پوچھ گَچھ کی جائے گی کہ کیاتونے ان آیات پر عمل بھی کیا؟ میں نفع نہ دینے والے علم،سیر نہ ہونے والے نفس اور قبول نہ ہونے والی دعاسے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی پناہ مانگتا ہوں۔“
(الزہدلابی داؤد ، باب من خبر ابی الدَرْدَاء ،الحدیث:224، ص201،مفہومًا)
ایک روایت میں ہے کہ آپ فرمایاکرتے کہ”مجھے سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ جب میں قیامت کے دن حساب کےلئے کھڑا ہوں تو مجھ سے کہا جائے :