پر گزریں گے،بعض پلک جھپکنے کی طرح ،بعض بجلی کی طرح، بعض ہوا کی طرح ،بعض
بہترین اور اچھے گھوڑوں اور اُونٹوں کی طرح (گزریں گے) اور فرشتے کہتے ہوں گے: ”رَبِّ سَلِّمْ ،رَبِّ سَلِّمْ“ اے پروَردگار! سلامتی سے گزار ،اے پروَر دگار! سلامتی سے گزار۔بعض مسلمان نَجات پائیں گے،بعض زخمی ہوں گے ،بعض اوندھے ہوں گے، بعض مُنہ کے بل جہنَّم میں گر پڑیں گے۔“ ( مسند امام احمد، الحدیث: ٢٤٨٤٧، ج ٩، ص ٤١٥)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان مِرۡاٰۃُ الۡمَنَاجِیۡح میں پل صراط سے گزرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا، جیسا عمل اور جیسا اخلاص ویسی وہاں کی رفتار۔ یہاں اَشِعَّۃُ اللَّمۡعَات نے فرمایا کہ اعمال سبب رفتار ہیں اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے قرب زیادہ اتنی رفتار تیز۔ (مراۃ المناجیح، حوض و شفاعت کا بیان، ج7، ص 474)
سیِّدُنااَبُو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاخوفِ آخرت
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی جنازے میں شرکت کے لئے گئے تو میت کے گھر والوں کو روتے دیکھ کر ارشاد فرمایا:”یہ کیسے بھولے لوگ ہیں، کل خود مرنے والے ہیں اور آج اس مرنے والے پر رو رہے ہیں۔“
(الزہد لابی داؤد،باب من خبر الی الدَرْدَاء ،الحدیث:248، ص215)