Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
40 - 70
 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ”تمہارے سامنے ایک دشوارگزار گھاٹی ہے جسے بھاری بوجھ والے عبور نہیں کر سکیں گے۔“لہٰذااس گھاٹی کوعبورکرنے کے لئے مجھے ہلکے بوجھ والارہناپسند ہے۔“(المستدرک،کتاب الأہوال،باب موت ابن وہب بسمع کتاب الأہوال ، الحدیث:8753، ج5،ص792)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دستُور ہے کہ جتنا مال زِیادہ اُتنا ہی وَبال بھی زِیادہ۔ سفر کا بھی اُصول ہے کہ بس یا  رَیل گاڑی وغیرہ میں جس کے پاس زِیادہ سامان ہوتا ہے وہ اُتنا ہی پریشان ہوتا ہے۔نیزجو لوگ بَیرونی ممالک کا سفر کرتے ہیں اُن کو تجرِبہ ہوگا کہ زِیادہ سامان والے کسٹم وغیرہ میں کس قدر پریشا ن ہوتے ہیں! اِسی طرح جس کے پاس دنیا کے مال کا بوجھ کم ہوگا اُسے آخِرت میں آسانی رہے گی ۔چنانچہ، 
پُل صراط سے گزرنے والوں کے مختلف انداز:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 480 صَفحات پر مشتمل کتاب،”بیانات عطّاریہ (حصہ اول)“ صَفْحَہ 441 پر شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہ فرماتے ہیں: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے  کہ میرے سر تاج ،صاحِبِ معراج، محبوبِ ربِّ بے نیاز صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جہنّم پر ایک پُل ہے جو بال سے زِیادہ باریک اور تلوار سے تیز تر ہے،اس پر لوہے کے کنڈے اور کانٹے ہیں جوکہ اُسے پکڑیں گے جسے اَللہ تعالیٰ چاہے گا ۔لوگ اُس