آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی گرما گرم کھانے سے تواضع فرمائی مگر رات گزارنے کے لئے کوئی لحاف نہ بھیجا تو ان میں سے ایک بولا: حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کھانا تو بھیج دیا ہے مگر لحا ف نہیں بھیجے، میں جا کر عرض کرتا ہوں۔ تو ایک دوسرے مہمان نے ایسا کرنے سے روکا مگر وہ نہ رکا۔ پس جب وہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس ایسےبستر ہیں جنہیں بستر بھی نہیں کہا جا سکتاتھا۔ تو وہ شخص حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا کہ میرے خیال میں رات گزارنے کے لئے آپ کے پاس ایسےہی بستر ہیں جو ہمارے پاس ہیں۔ تو حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ہمارا ایک اصلی گھرہے جس کے لئے ہم سامان جمع کر رہے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے،لہذا ہم نے اپنے بستر اور لحاف وغیرہ وہاں بھیج دیئے ہیں، اگر ہمارے پاس ایسی کوئی شے ہوتی تو ضرور آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر کر دیتے۔ نیز ہمارے پیچھے ایک گھاٹی ہے جس سے ہلکے بوجھ والے لوگ بھاری بھرکم سامان رکھنے والوں کی بہ نسبت آسانی سے گزر جائیں گے۔ (صفۃ الصفوۃ ،الرقم76ابو الدَرْدَاء عویمر بن زید ،ج1،ص324،مختصرًا)
اور ایک روایت میں حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے ایک بار حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی:”کیابات ہے آپ اپنے مہمانوں کی اس طرح ضیافت نہیں کرتے جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں ؟“تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:”میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار