تبدیل ہو گئے ،یہ قومِ عاد تھی، جس نے ”عَدَن“ سے لے کر ”عمان“ تک مال جمع کیااورکثیر اولاد پائی، پس توکوئی ہے جو مجھ سے قومِ عاد کاترکہ دودِرہم کے عوض خریدلے؟“(شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزہد وقصرالامل، فصل فی ذم بناء مالایحتاج الیہ من الدور، الحدیث:10740،ج7، ص398،بتغیرٍ)
ویران عمارتوں سے عبرت:
حضرت سیِّدُنامَکْحُوْل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہویران و برباد عمارتوں کے پاس جا کر کہتے:”اے برباد ہونے والی عمارتو! تمہارے پہلے رہائشی برباد ہوکرکہاں چلے گئے؟“
(الزہد لوکیع،باب الخرب ،الحدیث:509،الجزء الثانی،ص823)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!یہ ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْنکا طریقہ تھا۔ اَللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی دنیا سے بے رغبتی عطا فرما دے۔ اور اے کاش! ہمارے دل سے دنیا کی محبت نکل جائے اور ہم عبادت و ریاضت میں لگ جائیں۔ اور اے کاش! اَللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں کسی کا محتاج نہ کرے اور ہمیں اخلاص کی دولت مل جائے۔
اصلی گھر:
حضرت سیِّدُنامحمد بن کعبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ رات کے وقت حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس چند لوگ بطورِ مہمان آئے تو آپ