Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
37 - 70
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! دیکھئے امیر المؤمنین صدیق اکبر، فاروق اعظم اور مولا مشکل کشارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی سیرت مبارکہ کہ دورِ خلافت میں بھی دنیا سے بے رغبتی کا کیا عالم تھا۔
مرا دل پاک ہو سرکار دنیا کی محبت سے
مجھے ہو جائے نفرت کاش! آقا مال و دولت سے
(وسائلِ بخشش، ص 133)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!     	صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
قومِ عاد کے ترکہ کی قیمت:
حضرت  سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اہل دمشق کو مال و دولت جمع کرتے ہوئے دیکھا ، اور دیکھا کہ وہ اپنے رہنے کے لئے پختہ مکانات بنانے میں مشغول ہو کر آخر ت کو بھلاتے جا رہے ہیں تو انہیں نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے اہل دمشق! کیا تم حیا نہیں کرتے؟اتنا مال جمع کرتے ہو جو کھا نہ سکو گے۔ایسے مکان تعمیر کرتے ہو جن میں رہ نہ پاؤ گے اور ایسی امیدیں باندھتے ہو جو پوری نہ ہوسکیں گی۔تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے مال جمع کیا، لمبی امیدیں باندھیں اور مضبوط عمارتیں تعمیر کیں لیکن ان کے جمع شدہ اموال تباہ و برباد ہوگئے،ان کی امیدیں خاک میں مل گئیں اور ان کے محلات ان کی قبروں میں