Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
36 - 70
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا:”میرے خیال میں تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ مال لے کر آ گئے ہیں۔ “ عرض کی:”جی ہاں یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم!“ فرمایا:”تو خوش ہو جاؤ اور اس بات کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے۔ اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ کی قسم! مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں۔ بلکہ مجھے تو ڈرہےکہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی۔ پھر تم ایک دوسرے سے جلنے لگو جیسے پہلے لوگ جلنے لگے تھےاور یہ تمہیں بھی ویسے ہی ہلاک کر دے جیسے پہلے لوگوں کو اس نے کیا تھا۔“ (صحیح البخاری،کتاب الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ۔۔۔الخ، الحدیث:3158، ج2، ص363)
مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ”حضورِ انور کا یہ فرمان حضرات صحابہ کو ڈرانے اور احتیاط برتنے کے لیے ہے۔ اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے حضور کے صحابہ کو دنیاوی ناجائز رغبت اور ہلاکت یعنی کفرو طغیان سے محفوظ رکھا۔ وہ حضرات بادشاہ و امیر ہو کر بھی دنیا میں پھنسے نہیں۔ حضرت  سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک ہی کرتہ تھا۔ جسے دھو دھو کر پہنتے تھے۔ حضرت  سیِّدُنا ابوبکر کے کفن کے لیے گھر میں کپڑا نہ تھا۔ پہنے ہوئے کپڑے دھو کر انہیں میں آپ کو دفن کردیا گیا، حضرت  سیِّدُنا علی نے اپنے زمانہ خلافت میں فرمایا کہ میں اپنی تلوار فروخت کرنا چاہتا ہوں کہ آج گھر کا خرچ چلا سکوں۔ وہ حضرات امیری میں فقیری کرگئے۔ “(مراٰۃ المناجیح، کتاب الرقاق، الفصل الاول، ج7، ص9)