میں اَجنبیت کا گھر ہوں، میں گھبراہٹ کا گھر ہوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ، میں تنگی کا گھر ہوں، مگر جس کے لئے اَللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے وسیع کردے۔ایک حدیث شریف میں ہے:”قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ “(المعجم الاوسط، الحدیث ٨٦١٣،ج٦،ص٢٣٢)
جب قبر سے نکلیں گے تو قیامت کا پچاس ہزار سالہ دن ہو گا، سورج سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہو گا، تانبے کی دَہکتی ہوئی زمین پر ننگے پاؤں کھڑا کیا جائے گا۔ یاد رکھئے کہ اُس وقت تک بندہ قیامت کے روز قدم نہیں ہٹاسکے گا جب تک اُس سے چار سوال نہ کر لئے جائیں:(١)عمر کس کام میں صرف کی؟(٢)جوانی کیسے گزاری؟(٣)مال کس طرح کمایا اور کس طرح خرچ کیا؟(٤) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟
دنیا ہلاک وبرباد کرنے والی ہے:
حضرت سیِّدُناعمرو بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبیٔ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے سیِّدُناابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بحرین جزیہ لانے کے لئے بھیجا،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے اہل بحرین سے صلح فرما کر حضرت علاء بن حضرمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ان پر حاکم مقرر فرما رکھا تھا۔جب حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمال لے کر بحرین سے واپس لوٹے تو انصار نے ان کے آنے کی خبر سن لی اور سب نے نمازِ فجر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ادا کی۔ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نماز ادا فرما کر واپس جانے لگے تو سب آپ صَلَّی اللّٰہُ