سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان تھا۔ اور ایک ہم ہیں کہ دنیاوی عیش و عشرت کے دلدادہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور دنیا کی لذتوں میں گم ہو کر نیکی کی دعوت دینے اور ایسی دعوت دینے والوں سے بھی دور ہو چکے ہیں۔
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُلِلہ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کا ہر کام اَللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے، مگر بدقسمتی سے ہماری اکثریت نیکی کے راستے سے دور ہوتی جارہی ہے ،شاید اِسی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے، کوئی بیمار ہے تو کوئی قرضدار، کوئی گھریلو ناچاقیوں کا شکارہے تو کوئی تنگدست و بے روز گار، کوئی اَولاد کا طلبگارہے تو کوئی نافرمان اَولاد کی وجہ سے بیزار۔الغرض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے یقیناً دنیا و آخرت کی ہر پریشانی کا واحد حل اَللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے کاموں میں لگ جانا ہے۔ مسلمانوں کے لئے سب سے پہلا فرض نماز ہے مگر افسوس! کہ ہماری مسجدیں ویران ہیں۔
زندگی بے حد مختصر ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے کہ جتنا دنیا میں رہنا ہے اُتنا دنیا کے لئے اور جتنا عرصہ قبر وآخرت کا ہے اُتنی قبر وآخرت کی تیاری میں مشغول رہے ،کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر دیکھتے ہی دیکھتے اندھیری قبر میں پہنچ جاتے ہیں اِسی طرح ہمیں بھی مرنا پڑے گااَندھیری قبر میں اُترنا پڑے گا اپنی کرنی کا پھل بُھگتنا پڑے گا۔ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے: اے آدمی! کیا تو مجھے بھول گیا؟ یاد رکھ میں تنہائی کا گھر ہوں،