Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
33 - 70
تھے، جب سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٹٹول ٹٹول کر ان تک پہنچےاور ان سے فرمایا:”اے میرے بھائی! اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے!کیا ہم نے آپ کو بہتر انتظامات نہ دیئے تھے؟“تو سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:”اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو نبیوں کے تاجور، محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے مروی روایت یاد نہیں؟“پوچھا:”کون سی؟“عرض کی:”وہ روایت جس کا مضمون یہ ہے کہ تمہارے پاس دنیا کا صرف اتنا مال ہونا چاہئے جتنا مسافر کے پاس زادِ راہ ہوتا ہے۔“ حضرت  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ”ہاں مجھے یاد ہے۔“ اس پر سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:”اے امیر المؤمنین! سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے اس جہانِ فانی سے پردہ فرمانے کے بعد ہم نے کیا کیا؟“ سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ سن کر زارو قطار رونے لگے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی رونے لگے۔ اور پھر یہ دونوں عظیم صحابی ساری رات روتے رہے یہاں تک کہ رات گزر گئی اور صبح ہو گئی۔ 
(تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم 5463 عویمر بن زید بن قیس، ج47، ص135 تا 136 مختصراً)
سُبۡحَانَ اللہِ!سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اندازِ حیات پر قربان جایئے، ان کے دل میں سنتیں سکھانے کا کیسا جذبہ کارفرما تھا کہ اس کے لئے مدینہ منورہ کی پربہار فضاؤں کو چھوڑ کر ملک شام کا سفر اختیار کیا اور ملک شام میں دنیاوی عیش و عشرت سے اس لئے دور رہے کہ ان کے پیش نظر تاجدارِ مدینہ، قرارِ قلب و