سیِّدُنایزید بن ابی سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس قصہ گو افراد کے علاوہ مسلمانوں کے مال سے روشن چراغ اور ریشم کے بستر و گاؤ تکیے وغیرہ ملاحظہ فرمائے تو خادم کو فرمایا:”اے یرفا! دروازے پر کھڑے ہو جاؤ۔“ اور پھر خود اپنے درّے کو کانوں پر لٹکا کر سارا سامان گھر کے درمیان باندھ دیا اور وہاں موجود لوگوں سے فرمایا کہ میری واپسی تک کوئی بھی یہاں سے نہیں جائے گا۔
اس کے بعد امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے خادم کے ساتھ پہلے حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اور پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گئے اور ان کے ہاں بھی یہی سب کچھ دیکھ کر وہی کچھ کیا جو سیِّدُنایزید بن ابی سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کیا تھا۔ اور پھر اپنے خادم سے فرمانے لگے:” اے یرفا!چلو اب مجھے میرے بھائی ابو درداء کے پاس لے چلو تا کہ میں انہیں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں (کہیں وہ بھی تو ایسے ہی نہیں ہو گئے) حالانکہ مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس قصہ گو افراد ہوں گے نہ چراغ اور نہ ہی ان کا دروازہ بند ہو گا بلکہ ان کا بستر کنکریوں کا اور تکیہ عام سی گدڑی کا ہو گااور وہ باریک چادر اوڑھے ہوئے سخت سردی میں کپکپا رہے ہوں گے۔“
واقعی جب امیر المؤمنین سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ملاقات کے لئے ان کے گھر پہنچے تو انہیں بالکل ویسے ہی پایا جیسا ان کے بارے میں سوچا تھا ۔ وہ اندھیرے گھر میں بغیر چراغ کے تشریف فرما