سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ دیکھ کر امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانکار نہ فرما سکے اور آخر کار انہیں جانے کی اجازت عطا فرما دی۔ شام میں عام طور پر لوگوں کی عادت یہ تھی کہ گرمیوں کے موسم میں جہاد میں مصروف رہتے اور جب سردیوں کا موسم آتا تو واپس اپنی چھاؤنیوں میں لوٹ آتے۔ ایسی ہی ایک چھاؤنی میں سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کو نیکی کی دعوت دیا کرتے تھے۔ چنانچہ،
سردیوں کے ایام میں جب تمام لوگ چھاؤنیوں میں جمع تھے تو ایک دن امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشام جا پہنچے اور چھاؤنی کے قریب جا کر رات کا انتظار کرنے لگے۔ جب رات کا اندھیرا خوب پھیل گیا تو اپنے خادم سے فرمایا: ”اے یرفا!چلو مجھے یزید بن ابی سفیان کے پاس لے چلو تا کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں کہ کیا ان کے پاس قصے کہانیاں سنانے والے موجود ہیں؟ اور کیا وقف کے مال میں سے اس وقت بھی ان کے ہاں چراغ روشن ہے؟ اور کہیں ان کے بستر ریشم کے تو نہیں؟ اور جب وہاں پہنچوتو پہلے سلام کرنا جب وہ جواب دیں تو اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کرنا۔ اگر وہ تجھے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دیں تو اپنا تعارف کروانا پھر میرے متعلق بھی بتا دینا۔ “
پس دونوں چل دیئے اور جیسا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ جب امیر المؤمنین سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے