Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
29 - 70
برکت سے ہر اسلامی بھائی کے دل میں نیکیوں سے محبت اور برائیوں سے نفرت  کا ایسا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کا دل حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح ہر وقت دوسروں کی اصلاح کی کوشش کے مدنی مقصد پر عمل کے سلسلے میں کڑھتا رہتا ہے۔ چنانچہ، یہی وجہ ہے کہ میری اس قدر بے رخی کے باوجود ان دونوں اسلامی بھائیوں کا حوصلہ پست ہوا نہ ٹوٹا۔ اور آخر ایک دن میرے مقدر کا ستارہ چمکا اور میری والدہ ماجدہ نے مجھ سے پوچھ لیا:”یہ سبز سبز عمامہ والے تمہارے پاس کیوں آتے ہیں؟“ تو میں نے سچ بتاتے ہوئے عرض کی:”مجھے نماز کے لئے بلانے آتے ہیں۔“ تو والدہ محترمہ فرمانے لگیں:”یہ تو بہت اچھی بات ہے، تم ضرور جایا کرو۔“مگر میں نے سارا دن کام کی وجہ سے تھکاوٹ کا عذر پیش کیا تو والدہ ماجدہ نے فرمایا کہ نماز پڑھا کرو اِنۡ شَآءَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ تھکاوٹ خود ہی دور ہو جائے گی۔ 
بس اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا کرم ہو گیا اور میں نے مسجد کا رخ کر لیا اور پھر آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا چلا گیا، سر پر عمامہ کا تاج سج گیا، ساتھ ہی زلفیں اور داڑھی بھی سجا لی اور امیرِ اہلسنّت کا مرید بن گیا۔ ایک وقت یہ تھا کہ میں نمازوں میں سستی کیا کرتا تھا مگر اب اسلامی بھائیوں کی سچی لگن، خیرخواہی امت کے جذبے کی برکت سے نیکی کی دعوت دینے والا بن چکا ہوں۔ 
اَلۡحَمۡدُ لِلہِ عَزَّ   وَجَلَّ میرے دو مدنی منے ہیں اور میں نے دونوں کو دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لئے وقف کرنے کی نیت کی ہوئی ہے۔