اپنے ساتھ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں لے جاتے۔ اس طرح اَلۡحَمۡدُ لِلہ عَزَّ وَجَلَّ مرکز الاولیاء (لاہور)میں مینارِ پاکستان کے پاس ہونے والے صوبائی سطح کے اجتماع میں حاضری کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
وہ اسلامی بھائی کسی دوسرے علاقہ میں شفٹ ہو گئے تو مجھ پر سستی غالب آ گئی اور میں نے اجتماع میں جانا چھوڑ دیا۔ مگر اس اسلامی بھائی کے مدنی ذہن پرصد آفرین ! کہ انہوں نے”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے“ کے مدنی مقصد کے تحت میری خبر گیری نہ چھوڑی، بلکہ مسلسل میرے بارے میں دوسرے اسلامی بھائیوں سے پوچھا کرتے اور جب انہیں معلوم ہوا کہ میں نے اجتماع میں جانا چھوڑ دیا ہےاور واپس اپنی پرانی رَوِش کی جانب لوٹ رہا ہوں تو انہوں نے علاقہ کے دو اسلامی بھائیوں کی ذمہ داری لگائی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ اجتماع میں لے کر آیا کریں۔ چنانچہ، وہ دونوں اسلامی بھائی مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر نہ صرف اجتماع بلکہ مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لئے بھی میرے گھر تشریف لاتے مگر مجھ گنہگار پر نفس و شیطان کا ایسا غلبہ طاری ہو چکا تھا کہ اپنے چھوٹے بھائی سے کہلا بھیجتا کہ گھر پر نہیں ہوں۔
اس طرح مسلسل چار ہفتے گزر گئے ، وہ دونوں اسلامی بھائی تشریف لاتے اور میں ہر بار کہلا بھیجتا کہ گھر پر نہیں ہوں۔ مگر نجانے دعوتِ اسلامی کا مہکا مہکا اور سنّتوں بھرا مدنی ماحول کن جذبوں سے آشنا کر دیتا ہے کہ اس ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت