عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں محمد مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی امت کے کاموں میں صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں۔“(صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب فضل صلاۃ الفجر فی جماعۃ، الحدیث:650، ج1،ص233)
سُبۡحَانَ اللہِ! سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا لوگوں کی بے عملی پر کڑھنے کا جذبہ ملاحظہ کیجئے۔چونکہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخود عابد و زاہد ،روزہ دار و شب بیدار تھے لہذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہچاہتے تھے کہ تمام مسلمان بھی اسی اندازِ حیات کو اختیار کر کے ان کی طرح عابد و زاہد بن جائیں۔
دعوتِ اسلامی اور اصلاحِ امت کا مدنی جذبہ:
میٹھےمیٹھےاورپیارےاسلامی بھائیو!اَللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں نیک بننے اور نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ عطا فرمائے۔تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے سنّتوں بھرے، مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستگی اس جذبہ کا عملی پیکر بناتی ہے۔ چنانچہ،
منڈی بہاؤالدین (پنجاب ،پاکستان) کے رہائشی ایک اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے کہ میرے شب وروز گناہوں میں بسر ہورہے تھے مگر دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی کی نیکی کی دعوت اور مسلمانوں سے خیر خواہی کی کڑھن میری بگڑی بناگئی،وہ اس طرح کہ وہ اسلامی بھائی مجھ پر انفرادی کوشش کر کے