سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی مال سے نفرت:
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عبادت سے محبت اور مالِ دنیا سے دور رہنے کے متعلق ارشاد فرمایا:”اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرواورجان لو! وہ قلیل مال جو تمہاری دنیوی فکروں سے نجات کاذریعہ بنے اس کثیر مال سے بہتر ہے جو تمہاری غفلت کا سبب بنے۔ جان لو!نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی اور گناہ کبھی بھلایا نہیں جاتا۔“(المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الزہد باب کلام ابی الدَرْدَاء ، الحدیث1، ج8،ص167)
اصلاحِ امت کا جذبہ:
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر لمحہ نیکیاں کمانے کی کوشش میں لگے رہتے ۔ آپ کی راتیں اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتے ہوئے گزرتیں تو دن روزے کی حالت میں بسر ہوتے۔ اور آپ ہر وقت اس فکر میں مبتلا رہتے کہ کاش ! باقی سب مسلمان بھی دنیا سے منہ موڑ کر صرف اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو الدَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ سیدہ ام الدَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمیرے پاس تشریف لائے تو بڑے غصے میں تھے۔ میں نے غصہ کا سبب پوچھا تو فرمانے لگے:”اللہ