جن کا مال انہی پر وَبال:
حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتےکہ مالدار بھی کھاتے ہیں اور ہم(نادار) بھی، وہ بھی پیتے ہیں اور ہم بھی، وہ بھی لباس پہنتے ہیں اور ہم بھی، وہ بھی سُوار ہوتے ہیں اور ہم بھی۔ ان کے پاس بہت سا زائد مال ہوتا ہے جس کی جانب وہ بھی دیکھتے رہتے ہیں اور ہم بھی ان کے ساتھ ان کے مالوں کو دیکھتے ہیں، مگر ان کے مال کا حساب صرف انہی سے ہو گااور ہم اس سے بری ہوں گے۔
(الزہد لابن مبارک، باب فی طلب الحلال،الحدیث:592 ،ج 1،ص210)
بھلائی کس میں ہے؟
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!آج کل مال ودولت کو خیرو بھلائی اور اَللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل سمجھا جاتا ہے۔ جو صحیح نہیں۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”بھلائی اس میں نہیں کہ تمہیں کثیر مال و اولادمل جائے بلکہ بھلائی تو اس میں ہے کہ تمہار احِلم بڑھے، علم ترقی کرے اور تم اَللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ جاؤ اورجب کوئی نیکی کرنے کی سعادت پاؤ تواس پراَللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد بجا لاؤ اور گناہ ہوجانے پراَللہ عَزَّ وَجَلَّسے بخشش کاسوال کرو۔“
(المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الزہد،باب کلام ابی الدَرْدَاء ،الحدیث6،ج8،ص167)