میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اَللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے اربابِ اقتِدار سے کس قَدَر دُور رَہتے ہیں جبکہ آج ہم جیسوں کوبِالفرض صَدْر یا وزیر اعظم کا دعوت نامہ مل جائے تو ہزار مصروفیات اور ہزار ضَروری مُعاملات چھوڑ دیں اور خواہ ہزار کلو میڑ کاسفر طے کرنا پڑے، وہ بھی کر کے خوب عُمدہ لباس پہنے کشاں کشاں اسمبلی ہال کے رُو برو پہنچ کر سب سے پہلے لائن میں کھڑے ہو جائیں ! ہائے نَفس پروَری !!! بِلا سخت مجبوری کے محض دُنیوی مفادات اور حُبِّ جاہ کی خاطر اربابِ اقتدار و افسران وغیرہ کے پیچھے پھرنا، ان کی دعوتوں میں شریک ہونا، اِن سے تَمغہ جات حاصل کرنا، مَعاذَاللہ ان کے ساتھ تصاویر بنوانا پھر ان تصویروں کو سنبھال کر رکھنا، لوگوں کو دکھاتے پھرنا، ان کی فریم بنوانا اور اس کو گھر یا دفتر میں لٹکانا وغیرہ وغیرہ حرکتیں اپنے اندر ہلاکتیں تو رکھتی ہیں مگر ان میں بَرَکتیں نظر نہیں آتیں۔ ہاں اَہمّ دینی مَفاد کیلئے یا ان کے شر سے بچنے کیلئے اگر ان کے پاس جانا پڑ جائے تو اور بات ہے کہ جو مجبور ہے وہ معذور ہے۔منقول ہے: بِئْسَ الْفَقِیرُ عَلیٰ بَابِ الۡاَمِیْرِ۔ ( یعنی فُقرا میں وہ شخص بہت بُرا ہے جو امیروں کے دروازہ پر جائے)اورنِعمَ الۡاَمِیرُ عَلیٰ بَابِ الْفَقِیر۔( یعنی اُمراء میں سے وہ شخص بڑا اچّھا ہے جو فقیروں کے در پرحاضِر ہو) ( شیطان کی حکایات ص ٧١ تا ٧٢،فرید بکسٹال مرکزالاولیا ء لاہو ر)
بہرحال شیطان کی چال بہت خطرناک ہوتی ہے۔بَسا اوقات وہ نَفسانی خواہِشات کو دینی مَفادات باور کروا کر بھی اربابِ اقتدار کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔ اِسی سبب سے اَللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک اور محتاط بندے ان سے دُور رہنے میں ہی عافیَّت سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے مال پر نظر رکھنے کے بجائے جو قناعت اختِیار کرے وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہے۔(فیضانِ سنت، ج1،ص491 تا 493)