Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
23 - 70
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!قناعت ایک عظیم دولت ہے، جسے یہ نصیب ہو جائے اسے دوسری کسی دولت کی حاجت نہیں رہتی۔ چنانچہ،
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ 1548صَفحات پر مشتمل کتاب،”فیضانِ سنّت“ جلد اوّل صَفْحَہ491تا 493پرشیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت،بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطّار قادری سَلَّمَہُ الۡبَارِی فرماتےہیں:”اپنے دور کے جیِّد عالم حضرت سیِّدُنا خلیل بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِیکی خدمت میں ”اَہواز“سے اَمیر(یعنی حاکم) سُلیمان بن علی کا نُمائندۂ خُصوصی حاضِر ہو کر عرض گزار ہوا:”شہزادوں کی تعلیم و تربیّت کیلئے حاکم نے آپ کو شاہی دربار میں طلب فرمایا ہے۔“تو حضرتِ سیِّدُنا خلیل بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی نے سوکھی روٹی کا ٹکڑا دکھاتے ہوئے جواب ارشاد فرمایا:” میرے پاس جب تک یہ سُوکھی روٹی کا ٹکڑا موجود ہے مجھے دربارِ شاہی کی چاکَری کی کوئی حاجت نہیں۔ “
(روحانی حکایایت حصّہ اول ص١٠٦،رومی پبلیکیشنز مرکز    الاولیاء لاہور)
اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور ان کےصدقےہماری مغفرت ہو۔
جُسْتْجُو میں کیوں پھریں مال کی مارے مارے
ہم تو سرکار کے ٹکڑوں پہ پلا کرتے ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!     	صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکے نیک بندے اربابِ اقتِدار سے کس قَدَر دُور رَہتے ہیں جبکہ آج ہم جیسوں کوبِالفرض صَدْر یا وزیر اعظم