میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حُسن اَخلاق کے پیکر،محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام رِضۡوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمۡ اَجۡمَعِیۡنکو ہمیشہ دنیا سے بےرغبتی کا درس دیا۔اور یہ اسی تربیت کا اثر تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طبیعت مبارک میں دنیا سے بے رغبتی پائی جاتی تھی، زیب و زینت سے انہوں نے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار فرما رکھی تھی۔ آسائش کا ان کی زندگی میں دُور دُور تک نام ونشان نہ تھا۔ کھانے پینے میں صرف اسی قدر پر اکتفا فرماتے کہ کمر سیدھی رہ جائے، آپ سادہ لباس زیب تن فرمایا کرتے اور وہ بھی کھردرا ۔ جب زیب و آسائش سے بے رغبتی،کھانے پینے اور پہننے میں اس قدر سادگی نصیب ہو تو آدمی کم آمدنی پر بھی گزارا کر لیتا ہے۔لیکن ہمارا طرزِ معاشرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بہت مختلف ہے کیونکہ ہمیں یہ ساری چیزیں میسر نہیں،ہمارے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہنے سہنے کے معاملات میں سادگی کا کوئی تصور نہیں ۔ ہمیں تو ہر وقت کثیر مال کی ضرورت رہتی ہے۔
اے کاش !اَللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل و کرم سے ہمیں یہ سادگی نصیب ہو جائےاور ہم اپنے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں کے پیکر بن جائیں۔ اور ہماری زبان پر ہمیشہ یہ اشعار جاری رہیں کہ جن کی طرف امیرِ اہلسنت دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہنے کئی مرتبہ ہماری توجہ دلائی ہے۔