Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
20 - 70
اس قدر غالب ہوتی ہے کہ 30 دن میں 3دن بھی مدنی قافلوں میں سفر نہیں کر پاتے۔ دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار اجتماع جو کہ علم دین سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے اس میں بھی حاضری کا وقت نہیں نکلتا۔ اے کاش! سیدنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ کے صدقے ہمیں مال و دنیا سے بے رغبتی نصیب ہو جائے۔ 
 سیِّدُنااَبُو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دنیا 
اور مالِ دنیا سے بے رغبتی 
پیکرِعظمت و شرافت، محبوبِ رَبُّ العزت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ہدایت نشان ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیاکی مثال ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی دریا میں اپنی انگلی ڈبو کر دیکھے کہ اس کے ساتھ کتنا پانی آیا ہے۔ (صحیح مسلم، كتاب الجنَّة وصفَة نَعيمها وأهْلها، باب فنَاء الدّنيا .... الخ،الحدیث:2858،ص1529 ملخصاً )
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ بندہ میرا مال میرا مال کہتا رہتا ہے حالانکہ اس کے مال کے صرف تین حصے ہیں:ایک وہ جو کھا کر ختم کر دیا دوسرا وہ جو پہن کر بوسیدہ کر دیا اور تیسرا وہ جو کسی کو (راہِ خدا میں) دیا اور جمع کر لیا۔ اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے سب ختم ہو جانے والا ہے اور وہ اسے دوسرے لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے۔ 
(صحیح مسلم، كتاب الزهد والرقاق،الحدیث:2959،ص1582)