Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
19 - 70
ایک بار حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا کہ ”جب شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافع رنج و مَلال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت ہوئی اس وقت میں تجارت کیاکرتا تھا۔میں نے کوشش کی کہ میری تجارت بھی باقی رہے اور میں عبادت بھی کرتارہوں لیکن ایسانہ ہوسکا اور بالآخرمیں تجارت کوچھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوگیا۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابودَرْدَاء  کی جان ہے!اگر مسجد کے دروازہ پر میری دکان ہو اور اس سے روزانہ چالیس دینار کما کر راہِ خدا میں صدقہ کروں اور میری نمازوں میں بھی خلل واقع نہ ہو تو پھر بھی میں تجارت کرنا پسند نہیں کروں گا۔ “ کسی نے عرض کی :”اے ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!آپ تجارت کو اس قدر ناپسند کیوں جانتے ہیں ؟“ فرمایا:”حساب کی شدّت کے خوف کی وجہ سے۔“
(تاریخ مدينة دمشق لابن عساکر،الرقم 5464 عويمر بن زيد ،ج47، ص108)
یہ سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کی علامت تھی اور یہ ان کی ہی مدنی سوچ تھی کہ انہوں نے اس طرح تجارت کے معاملات کو خیر آباد کہا اور اسے چھوڑ کر عبادت میں مصروف ہو گئے۔ 
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!ایک طرف اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکے یہ مقدس صحابی ہیں کہ عبادت اور علم دین حاصل کرنے کے شوق نے تجارت ہی چھڑوا دی اور ایک ہم ہیں کہ غم مال و روزگار ہم سے فرض نمازیں بھی چھڑوا دیتا ہے۔ مال و دنیا کی ہوس