سیِّدُنااَبُو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شوقِ عبادت
جب آفتابِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی جلوہ نمائیوں سے حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل کی تاریکیاں جگمگ ہونے لگیں۔ تو دل کی دنیا میں ایک مدنی انقلاب برپا ہو گیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی جھولی میں عبادت، ریاضت، راہِ خدا میں سفر، تلاوتِ قرآنِ مجید اور سجدوں کی کثرت کے ساتھ ساتھ علم و تقویٰ کا بے شمار خزانہ جمع کرنے کا پختہ عزم فرما لیا۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے حصول کے لئے شب و روز ایک کر دیا۔ چنانچہ،
شوقِ عبادت میں ترکِ تجارت:
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک مصروف تاجر (Business man)تھے۔ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دل میں عبادت و ریاضت کا شوق پیدا ہوا تو ان دونوں چیزوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے کچھ مشکل ہو گیا ۔ چنانچہ، بغیر کسی تردد کے تجارت کو خیر آباد کہہ کر اپنا سارا کاروبار (Business )ترک کر دیا۔ اور اس کا سبب یہ مدنی سوچ بنی کہ مجھے علمِ دین سیکھنا ہے۔ پس اس جذبے نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو کاروبار ترک کرنے پر آمادہ کیا اور بغیر کسی تردّد کے آپ نے کاروبار چھوڑ دیا اور عبادت وریاضت اور علم دین سیکھنے میں مصروفِ عمل ہو گئے۔ چنانچہ،