Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
17 - 70
تھے مگرجب غسل دینے کے لئے اسلامی بہنوں نے کپڑا کھولا تو ان کے ہاتھ اس طرح ادب کے ساتھ بندھے ہوئے تھے جس طرح صلوۃ وسلام پڑھتے وقت باندھے جاتے ہیں۔ان کی خالہ زاد بہن اور ممانی کا بیان ہے کہ غسل کے بعد ہم نے دیکھا کہ مرحومہ امّ خلیل عطاریہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی ، اور ان کا چہرہ ایسا نُورانی ہورہا تھا کہ سبھی اسلامی بہنیں رشک کر رہی تھیں۔ 
مرکزالاولیاء (لاہور) میں ان کے گھر پر جب اسلامی بہنیں ان کی میت کے گرد جمع ہوکرنعت خوانی کررہی تھیں تو کثیر اسلامی بہنوں نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ اُمِّ خلیل عطاریہ کے لب بھی یوں ہل رہے ہیں کہ گویا اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر نعت پڑھ رہی ہوں ۔ انہیں ٢٧ رمضان المبارک ١٤٣٠ھـ کو نشاط کالونی کے قبرستان میں ان کے والدِ مرحوم کے قریب دفن کردیا گیا ۔اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں نے اتنا کثیر ایصال ثواب کیا جس کا شمار نہیں ۔ اُمِّ خلیل عطّاریہ کی تدفین کے چند روز بعد ان کی بھانجی نے خواب میں دیکھا کہ مرحومہ سفید لباس میں ملبوس پھولوں کے درمیان بہت خوش وخرم بیٹھی ہیں ۔ بھانجی کے دریافت کرنے پر بتایا کہ یہ میرا گھر ہےاور میں یہاں بہت سکون سے ہوں ۔
گنہ گاروں کو ہاتف سے نوید خوش مآلی ہے  مبارک ہو شفاعت کے لئےاحمد ساوالی ہے	
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!     	صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد