Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
16 - 70
بھی شرکت کی ،اس دوران طبیعت بھی خراب ہوئی مگر ہمت نہ ہاری اور کورس میں مکمل شرکت کی ۔اسلامی بہنوں کے مَدَنی قافلہ میں بھی سفر اختیار کیا۔ 
خود انہی کا تحریری بیان ہے کہ مَدَنی قافلہ میں سفر سے پہلے مجھے سانس کی تکلیف تھی لیکن مَدَنی قافلے میں سفر کی برکت سے مجھے اس تکلیف میں کافی کمی محسوس ہوئی۔انہوں نے اپنا زیور جس کی مالیت تقریباً 38ہزار روپے بنتی تھی،دعوتِ اسلامی کو دے دیا تھا۔اپنے گھر میں اسلامی بہنوں کے مَدَنی قافلوں کی میزبانی بھی کی اور شرکاء قافلہ اسلامی بہنوں کی خوب خدمت کی ۔اپنی شادی کے تقریباً دوسال بعد ٢٦ رمضان المبارک ١٤٣٠ھـ جمعرات کو عصر کے وقت ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی،انہوں نے بلند آواز سے ”یاغوث المدد “کہناشروع کردیا اور کلمہ طیبہ ”لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ“پڑھا۔انہیں فوراً اسپتال لے جایا گیامگر یہ جانبر نہ ہوسکیں اور انتقال فرماگئیں ،ان کا آخری کلام ”لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ“تھا۔چنانچہ، 
حضرت سَیِّدُنامعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے کہ جس کا آخری کلام ”لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ “ہو وہ جنتی ہے۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، باب فی التلقین،الحدیث:3116،ج3،ص255) 
اپنی وفات کے وقت بھی یہ مدنی برقع میں ملبوس تھیں۔ ان کے چھوٹے بھائی کا بیان ہے کہ اسپتال میں انہیں جب کپڑے میں لپیٹا گیا تو ان کے ہاتھ پہلو کے ساتھ