گا اور زنا کی وجہ سے لڑکی والوں کو عارو ننگ ہوگی، نتیجہ یہ ہوگا کہ خاندان آپس میں لڑیں گے، قتل و غارت ہوں گے، جس کا آج کل ظہور ہونے لگا ہے۔“
(مراۃ المناجیح، کتاب النکاح، الفصل الثانی، ج5، ص8)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! خوامخواہ امیر گھرانوں سے رشتہ داری کے چکر میں اپنی بچیوں کو گھر نہیں بٹھائے رکھنا چاہئے بلکہ مناسب اور نیک لڑکا ملتے ہی شہنشاہِ مدینہ، صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے فوراً اپنی بچی کی شادی کر دینا چاہئے۔ جیسا کہ حضرتِ سیِّدُناشیخ شاہ کرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اپنی شہزادی کے لئے پڑوسی ملک کے بادشاہ کا رشتہ ٹھکرا دیا اور مسجِد مسجِد گھوم کر ایک نیک نوجوان تلاش کر کے اس سے اپنی لڑکی کی شادی کر دی ۔
سَیّدَتُنا اُمِّ دَرْدَاء کی دنیا سے بے رغبتی:
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ سَیِّدَتُنا اُمِ در داء آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بارے میں مروی ہے کہ وہ ایک صاحبِ حسن و جمال خاتون تھیں ، آپ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نیکی کی دعوت سے اس قدر متاثر تھیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی نگاہوں میں بھی دنیا کی کچھ حیثیت نہ تھی۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے بعد حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جواب دیا:”اَللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم!میں (سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ