سُبۡحَانَ اللہِ !سیِّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدنی سوچ پرقربان جائیے! کہ حاکم کے بیٹے کا رشتہ ٹھکرا رہے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ اپنی بیٹی کی شادی کرتے وقت یہ بھی نہیں دیکھتے کہ لڑکا نمازی اور عاشق رسول ہے کہ نہیں؟ یہ تو معلوم کرتے ہیں کہ ماہانہ آمدنی کتنی ہے؟ مگر یہ نہیں پوچھتے کہ آمدنی کا ذریعہ کیا ہے؟ چنانچہ،
لڑکا کیسا ہونا چاہیے؟
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”جب کوئی ایسا شخص تمہیں نکاح کا پیغام دےجسکا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے (فوراً اپنی لڑکی کا) نکاح کر دو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ و فساد پیدا ہو جائے گا۔ “(سنن الترمذی،کتاب النکاح، باب اذا جاءکم من ترضون دینہ فزوجوہ،الحدیث:1086، ج2،ص344)
مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان اپنی شہرۂ آفاق کتاب مراٰۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیحمیں اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ”جب تمہاری لڑکی کے لیے دیندار عادات و اطوار کا درست لڑکا مل جائے تو محض مال کی ہوس میں اور لکھ پتی کے انتظار میں جوان لڑکی کے نکاح میں دیر نہ کرو، لڑکے کے خلق سے مراد تندرستی، عادت کی خوبی، نفقہ پر قدرت سب ہی داخل ہیں۔ اس لیے کہ اگر مالدار کے انتظار میں لڑکیوں کے نکاح نہ کیے گئے تو ادھر تو لڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی اور ادھر لڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے جس سے زنا پھیلے