Brailvi Books

سیرت سیِدنا ابو درداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ
11 - 70
مبلغ بن گئے۔ اور آپ نے اپنے گھر والوں کو دنیا اور اس سے بے رغبتی کا ایسا درس دیا کہ ان کے دلوں سے دنیا اور مالِ دنیا کی محبت ختم ہو گئی۔ چنانچہ، 
سیدنا ابو دَرْدَاء کی شہزادی کی شادی:
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہزادی کے بارے میں دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینۃ کی مطبوعہ 413 صَفحات پر مشتمل کتاب”عیون الحکایات (مترجم)“ صَفْحَہ 351 پر ہے:یزیدبن معاویہ نےحضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پیغام بھیجاکہ اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سےکر دیں۔مگر حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےانکارفرمادیا۔پھرایک غریب شخص (صفوان بن عبد الله بن صفوان بن أمية الجمحي) نےنکاح کا پیغام بھجوایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےقبول فرمالیااوراپنی صاحبزادی کا نکاح اس غریب شخص سےکردیا۔
لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی صاحبزادی کےلئےحاکم وقت کے بیٹے کارشتہ ٹھکرا دیا اورایک غریب شخص سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کر دیا۔جب لوگوں نےاس کی وجہ پوچھی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا:”میں نے اپنی بیٹی دَرْدَاء کی بہتری سوچی ہے تم اس وقت دَرْدَاء کے بارے میں کیا سوچتے جب ایک دنیا دار بادشاہ اس کا شوہر ہوتا اور وہ ایسے گھر میں رہتی جس میں اس کی نظریں چکا چوندھ(یعنی اندھی)ہو جاتیں تو کیااس کا دین سلامت رہتا؟“(الزہد للامام احمد بن حنبل،باب زہد ابی الدَرْدَاء ،الحدیث:761،ص165)