Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
81 - 86
کرنے والوں کے لئے سونے کے منبر ہیں،وہ قیامت کے دن اُن پر بیٹھیں گے اور گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے ۔''
 (فیض القدیر ،حرف الام ، تحت الحدیث۷۳۵۳، ج۵، ص ۳۷۳)
علم سے گفتگو اور حلم سے خاموشی:
    حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:''سات اشخاص قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایہ رحمت میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا(۱) وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرے اورکہے کہ'' میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تجھ سے محبت کرتاہوں ۔'' اوردوسرا بھی اسی کی مثل کہے(۲) وہ شخص جواللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرے تو خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے اس کی آنکھیں اشکبار ہوجائیں(۳)وہ شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو اُسے بائیں سے چھپائے (۴) وہ شخص جسے کوئی منصب وجمال والی عورت اپنی طرف دعوتِ(گناہ)دے اوروہ کہے کہ ''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں۔''(۵)وہ شخص جس کا دل مساجد سے محبت کی وجہ سے انہی میں لگار ہے(۶)وہ شخص جواوقاتِ نمازکے لئے سورج کی رعایت کرتاہو(یعنی وقت میں نمازپڑھتاہو) اور (۷) وہ شخص کہ اگر بولے تو علم کی بات کرے اوراگرخاموش رہے تو حلم کے سبب خاموش رہے۔''
کتاب الزھد لامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۸۱۹، ص ۱۷۳)
     حضرت سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ئمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :''سات اشخاص کواللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس دن اس کے علاوہ
Flag Counter