Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
80 - 86
اور اُن کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی ان سے کہا جائے گا:'' اِن گنبدوں کے نیچے ان کرسیوں پر بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کا حساب فرمادے ،بے شک آج کے دن تم پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ تم غمگین ہوگے۔''
 (تاریخ بغداد ،الرقم:۴۴۸۰ داؤد بن ابراھیم بن داؤد۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۸، ص۳۷۴)
اللہ عَزَّوَجَلّ َکے خاص بندے:
 (۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم، ر ء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بعض بندوں کواپنی رضا کے لئے لوگوں کی حاجات پورا کرنے کے لئے خاص کرلیا ہے اور اس نے عہد فرمایا ہے کہ انہیں عذاب نہ دے گا،پھرجب قیامت کا دن ہوگاتوانہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہم کلای کاشرف پارہے ہوں گے جبکہ لوگ حساب میں ہوں گے۔''
 (فیض القدیر،حرف الھمزہ تحت الحدیث۲۳۵۰،ج۲،ص ۶۔۶۰۵)
 (۲)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : '' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجات ان کے پاس لاتے ہیں،یہ بندے قیامت کے دن عذابِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے امن میں ہوں گے۔''
 (کنز العمال ،کتاب الزکاۃ ، الحدیث ۱۶۴۶۱،ج۶، ص ۱۹۰)
ہجرت کرنے والوں کی شان:
    حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضورنبی پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :''ہجرت
Flag Counter