(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''میں سمجھتاہوں کہ ابتدائی احادیث مبارکہ جن میں سایہ عرش کی صراحت ہے انہیں اِن احادیث کے ساتھ ملادینا چاہے جن میں سایہ عرش کی تصریح تونہیں مگراس کی طرف واضح اشارہ موجودہے جیسے نور کے منبر، کرسیوں اور مشک کے ٹیلوں پر بیٹھنے والے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضورحاضر ہونے والے ،اس کا سب سے زیادہ قرب پانے والے اورقیامت کے دن اس کی حفظ و امان میں رہنے والے۔
اورپھریہ کہ ان لوگوں کا سایہ عرش میں ہونا ان احادیث مبارکہ کی وجہ سے ظاہر ہے جن میں''رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے باہم محبت کرنے والوں،عادل حکمران، روزہ دار،سودوزناء سے بچنے والوں اور عیادت کرنے والوں کاذکرہے۔اوروہ احادیث مبارکہ جن میں سایہ عرش کی طرف اشارہ ہے انہی میں سے یہ بھی ہیں۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے:''قیامت کے دن تین اشخاص مُشک کے ٹیلوں پر ہوں گے، انہیں اَلْفَزَعُ الْاَکْبَر(یعنی بڑی گھبراہٹ) خوف زدہ نہ کرے گی(۱)وہ شخص جو کسی قوم کی