Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
77 - 86
بَنی آدم کے اجسام کی طرح ہیں مگران کی روحیں شیاطین کی ارواح کی مثل ہیں اور (۳)تیسرے وہ ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایہ رحمت میں ہوں گے جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(کنزالعمال،کتاب خلق العالم ، الحدیث ۱۵۱۷۵، ج۶،ص ۵۶)
    (علامہ سیوطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مزیدفرماتے ہیں)مذکورہ حدیث پاک سے زیادہ واضح وہ روایت ہے جوحضرت سیِّدُناابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:'' سورج(بروزِقیامت) لوگوں کے سروں کے اوپر ہوگااوراُن کے اعمال ان پر سایہ کریں گے یا ان کے ساتھ ہوں گے۔''
 (جامع العلوم والحکم ،تحت الحدیث السادس والثلاثون ، ص۴۲۴)
سوال :     اس حدیث پاک سے ظاہر ہوتا ہے کہ سایہ ،عرش کا نہیں ہوگابلکہ بندے کے اعمال کا ہوگا........؟

جواب : قیامت کے دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگااور اعمال کی طرف سائے کی جونسبت کی گئی ہے وہ سبب ہونے کے اعتبارسے ہے۔ (یعنی ان اعمال کے سبب انہیں عرش کا سایہ نصیب ہو گا۔)رحمۃاللہ علیہ
امام قرطبی رحمۃاللہ علیہ کی شرح:
    امام قرطبی علیہ رحمۃاللہ القوی اپنی کتاب''التذکرۃ''میں حضرت سیِّدُنا سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان(کوئی مؤمن مردیاعورت سورج کی گرمی نہ پائے گا) کے تحت فرماتے ہیں کہ'' یہ روایت ظاہری طورپرسارے مؤمنین کے لئے عام ہے، لیکن اس سے مراد کامل الایمان مؤمن ہیں یا وہ جوسایہ عرش کے لئے کوشش کرے جیساکہ
Flag Counter