(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)پھر میں نے دیکھاکہ امام طبرانی علیہ رحمۃاللہ الوالی نے اپنی کتاب ''الکبیر'' میں اس حدیثِ پاک کے مرفوع ہونے کی صراحت فرمائی ہے ۔ چنانچہ ،
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عَمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ''بروزِقیامت لوگ جمع ہوں گے ،توکہاجائے گا:''اس اُمت کے فقراء اورمساکین کہاں ہیں ؟''تو وہ کھڑے ہوجائیں گے َ''پوچھاجائے گا:''تم نے کیاعمل کئے ؟'' وہ عرض کریں گے :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا تو ہم نے صبرکیااورحکمرانی وسلطنت کاوالی ہمارے علاوہ دوسروں کو بنادیا ۔''اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:''تم نے سچ کہا ۔''یا اسی کی مثل ارشادفرمائے گا(یہ راوی کا شک ہے)پھروہ دوسرے لوگوں سے بہت پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے اورحساب کی سختیاں حکمرانوں اورصاحبِ سلطنت لوگوں پرباقی رہ جائیں گی ۔'' صحابہ کرام رضوان ا للہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی :''اس دن مؤمنین کہاں ہوں گے ؟'' حضورنبی ئکریم،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' ان کے لئے نور کے منبررکھے جائیں گے اوراُن پربادلوں سے سایہ کیاجائے گا۔''