| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''شہداء اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں یاقوت کے منبروں پرعرش کے سائے میں ہوں گے کہ جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''
(الجامع الصغیر ، الحدیث ۴۹۵۷، ص ۳۰۵)
موتیوں کی کرسیاں:
حضرت خیثمہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''قیامت کے دن انسان اپنے پسینے میں تیررہا ہوگا یہاں تک کہ وہ پسینہ اس کی ناک تک پہنچ جائے گا۔''توحضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا: ''مؤمنین کے لئے موتیوں کی کرسیاں ہوگی جن پر وہ بیٹھیں گے،اُن پر بادلوں سے سایہ کیا جائے گااور قیامت کا دن ان کے لئے دن کی ایک ساعت کے برابر یا ایک بار آنکھ جھپکنے کے برابر ہوگا۔''
(حلیۃ الاولیاء،الحدیث۱۱۶۱۲،ج۸،ص۱۳۱)
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا:'' قیامت کے دن کی سختیاں بہت زیادہ ہوں گی یہاں تک کہ کفار کوان کا پسینہ لگام دے رہاہوگا۔''ان سے عرض کی گئی:'' تومؤمنین کہاں ہوں گے ؟''ارشادفرمایا:''سونے کی کرسیوں پر ہوں گے اوراُن پربادل سے سایہ کیا جائے گا۔''
(فتح الباری شرح البخاری ،کتاب الرقاق،ج۱۱،ص۳۳۷)