| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
(حضرت)ابراہیم (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کے ساتھ عرش کے سائے میں کھیلتا ہو۔'' اس نے عرض کی:'' کیوں نہیں ۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الجنائز ، باب فیمن مات لہ واحد،الحدیث ۳۹۹۶، ج۳، ص ۹۴)
مسلمان بچے ،سایہ عرش میں ہوں گے:
حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشادفرماتے ہیں کہ'' قیامت کے دن مسلمانوں کے بچوں کولایاجائے گا جن کے سینے اُبھرے ہوئے ہوں گے ،میدان محشرمیں ٹھہرنا ان پرسخت گزرے گا تووہ چِلّائیں گے،پس حکم ہو گا:''اے جبرائیل علیہ السلام!ان کومیرے عرش کے سائے میں لے جاؤ۔'' تووہ انہیں عرش کے سائے میں لے جائیں گے۔''
(الفردوس بما ثور الخطاب،الحدیث۸۷۵۹،ج۵،ص۴۶۲)
نمازِمغرب کے بعد دونفل پڑھنے کی فضیلت:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے : ''جس شخص نے مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت اداکی اور ہر رکعت میں سوره فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سوره اخلاص پڑھی تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ کوئی رکاوٹ نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش تک پہنچ جائے گا۔''
(شرح الزرقانی للموطا ،کتاب الشعر،باب ماجاء فی المتحابین ...الخ ، تحت الحدیث : ۸۱۴۱،ج۴، ص ۴۶۹)