Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
72 - 86
صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک علم کی باتیں پہنچاتے تھے ، اِن منبروں پر بیٹھو! تم پر کوئی خوف نہیں حتّٰی کہ جنت میں داخل ہوجاؤ۔''
 (حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۱۰۵۹۴، ج۷، ص ۳۰۰)
    امام دارقطنی علیہ رحمۃاللہ القوی کی روایت میں'' نور کے منبر'' کا ذکر ہے۔
مسلمانوں کے بچے شفاعت کریں گے:
    حضرت سیِّدُناابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ رحمت نشان ہے :''مسلمانوں کے بچے قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہوں گے ،وہ شفاعت کریں گے اوراُن کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
''(کنزالعمال،کتاب القیامۃ،ا لحدیث ۳۹۳۰۱، ج۱۴ ، ص ۲۰۰)
شہزادہ رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ:
    حضرت سیِّدُنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انصارکے ایک شخص تھے جن کاایک بیٹاتھاجو ان کے ساتھ ہی رہتاتھا، ایک دن حضورنبی  کریم،رء ُوف رَّحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ان سے اِسْتِفْسَار فرمایا:'' کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟'' عرض کی:''یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!جی ہاں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ سے ایسی ہی محبت فرمائے جیسی میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔''تو اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تمہاری اپنے بیٹے سے جومحبت ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے بڑھ کرمجھ سے محبت فرماتا ہے۔'' چند دن ہی گزرے تھے کہ اس کے بیٹے کا انتقال ہوگیا،رحمتِ عالم ،نورِمجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا:''کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ تمہارا بیٹا میرے بیٹے
Flag Counter