| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
ذیشان ہے :'' قیامت کے دن عرشِ رحمن عَزَّوَجَلَّ کے سب سے زیادہ قریب وہ مؤمن ہوگا جسے ظلماًقتل کیاگیاہوگا، اس کا سراس کے دائیں جانب اور اس کا قاتل بائیں طرف ہوگاجبکہ اس کی رگوں سے خون بہہ رہاہو گااور وہ عرض کریگا:'' اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیاتھا۔''
(المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۲۵۹۷،ج۱۲ ،ص۸۰)
تعلیمِ قرآن پاک پر مغفرت کی بشارت:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جو مرفوعاًروایت ہے جس میں یہ دعاہے ''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !(قرآن کریم)سکھانے والوں کی مغفرت فرما،اُن کی عمریں طویل کردے اور ان کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرما کہ بے شک یہ تیری اتاری ہوئی کتاب (یعنی قرآنِ حکیم )کی تعلیم دیتے ہیں۔''
(الموضوعات،حدیث فی الدعا للمعلمین ، ج۱، ص ۲۲۱)
حدیث پاک کے شواہد سونے کے منبراورچاندی کے گنبد:
حضرت سیِّدُنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ''جب قیامت کا دن ہوگا تو سونے کے منبر رکھے جائیں گے جن پر چاندی کے گنبد ہوں گے ،ان میں ہیرے ،یاقوت اور زمرد جَڑے ہوں گے اور اس کی چادریں باریک اورسبز ریشم کی ہوں گی پس علماء کرام (کَثَّرَھُمُ اللہُ تَعَالٰی)کو بلا کر اُن پر بٹھایا جائے گا پھراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک منادی ندادے گا:''کہاں ہیں وہ جورضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اُمتِ محمدیہ عَلٰیٰ