ہوجائے تواس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے،اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا،وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوگا،حورِ عین(یعنی بڑی آنکھوں والی) سے نکاح کریگا اور اس کے سر پر وقاراورجنت کا تاج سجایاجائے گا(۲)وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاطلب کرتے ہوئے اپنے جان و مال کے ساتھ نکلے اوریہ ارادہ رکھتا ہو کہ کفارکو قتل کرے مگر خود شہید نہ ہو پس اگر یہ شخص فوت ہوجائے یا قتل کردیا جائے تووہ بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب ہوگا اورسچ کی مجلس میں قوت والے بادشاہ کے حضورحاضرہوگا(۳)وہ شخص جو خالص اللہ عَزَّوَجَلّ َکی رضا کے لئے اپنے جان و مال کے ساتھ اس ارادے سے نکلے کہ( کفارکو) قتل کرے اور شہید ہوجائے پس اگر یہ شخص فوت یا شہید ہوجائے تو قیامت کے دن اپنی تلوار بلندکرکے کندھے پررکھے ہوئے آئے گا جبکہ دیگرلوگ گھٹنوں کے بل بیٹھے یہ کہتے ہوں گے:''کیاہمیں جگہ نہیں دی جائے گی۔''پھر وہ (مذکورہ تینوں اشخاص)عرش کے نیچے موجود نور کے منبروں پرآکر بیٹھیں گے اور دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کس طرح فیصلہ کیا جاتا ہے۔''