Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
69 - 86
مُصَنِّف رحمۃاللہ علیہ کی مزیدتلاش وجستجو:
    (علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''پھرمَیں نے تلاش و جستجو کی تو عرش کاسایہ دلانے والے مزید سات خصائل مل گئے اور یوں یہ پورے70 ہوگئے۔

    حضرت سیِّدُناعتبہ بن عبداَلسُّلَمِیْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی  پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ''راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں قتل ہونے والوں کی تین قسمیں ہیں،ایک وہ مؤمن جواپنی جان اوراپنے مال کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہادکرے اوردشمن سے خوب لڑے یہاں تک کہ قتل کردیا جائے تو یہ شہیدِ مُفْتَخِر (یعنی قابلِ فخر)ہے اوروہ عرش کے نیچے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خیمہ(یعنی قرب ) میں ہوگا اور انبیا ء کرام علیھم الصلوۃ والسلام اس سے درجہ نبوت (اورنبوت سے متعلق کمالات) میں افضل ہوں گے۔ ''
 (المعجم الکبیر ،الحدیث:۳۱۱،ج۱۷،ص۱۲۶)

(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبدالرحمن بن قتادہ ، الحدیث ۱۷۶۷۳، ج۶، ص۲۰۵)
حدیث پاک کے شواہد

شہداء کی اقسام اوران کے فضائل:
(۱)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ''شہداء کی تین اقسام ہیں(۱)وہ شخص جواپنے جان و مال کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خلوص دل سے نکلے،وہ نہ تو لڑائی کاارادہ رکھتاہو اورنہ ہی خودقتل ہونا چاہے بلکہ صرف مسلمانوں کی تعدادمیں اضافہ کرناچاہتاہے پس اگر وہ شخص( طبعی موت) مرجائے یا قتل
Flag Counter