Brailvi Books

سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟
66 - 86
 (یعنی بدنگاہی نہیں کرتے)، اپنے مال میں سود نہیں ملاتے ، اپنے فیصلوں پررشوت نہیں لیتے، ان کے دلوں میں حق اوران کی زبانوں پر سچ ہوتا ہے ۔''
 (حلیۃ الاولیاء ،الجز العاشر ،خزیمۃ العابد ، ج۴، ص ۳۱۱)
سایہ عرش میں کس کودیکھا؟
    حضرت سیِّدُناعمرو بن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف جلدی کی تو آپ نے ایک شخص کو عرش کے سائے میں دیکھاتواس کے مقام ومرتبہ پرانہیں بہت رشک آیا اور فرمانے لگے''یقینایہ شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بزرگی والاہے۔''پس آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کانام جاننے کے لئے عرض کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:'' بلکہ میں تمہیں اس کا عمل بتاتا ہوں (جس کے سبب اسے یہ مقام ملا) میں نے اپنے بندوں کو اپنے فضل سے جونعمتیں عطافرمائی ہیں یہ شخص ان پر حسد نہیں کرتا تھا ،چغلی نہیں کھاتا تھااور اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرتا تھا۔''
 (حلیۃ الاولیاء ،الحدیث۵۱۲۱،ج۴،ص۱۶۳)
اطاعتِ والدین،سایہ عرش کے حصول کاذریعہ ہے:
    حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس وقت حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام کواپنے کلام کاشرف بخشنے کے لئے ''کوہ طور'' پر اپنا قرب عطافرمایا توآپ علیہ السلام نے ایک شخص کوعرش کے سائے میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی :'' اے میرے
Flag Counter