| سایہ عرش کس کس کو ملے گا؟ |
میں عرض کی۔۔۔۔۔۔ ،پھر انہوں نے ماقبل حدیث (جوابھی اوپرگزری )ذکر کی اوراُس میں اتنا زائد تھا کہ''وہ جو میری مسجدوں کو آباد کرتے اور صبح کے وقت اِستِغْفَار کرتے ہیں ۔ ' '
(کتاب الزھدلا بن المبارک،الحدیث۲۱۶، ص۷۱)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں)''کامل وضو ، رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے باہمی محبت ،ظلم سے ہاتھوں کوبچانے اور مساجد کو آباد کرنے کے بارے میں بہت ساری احادیث واردہوئی ہیں جیساکہ ماقبل میں گزریں۔اور یہ تمام روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان میں سے ہرایک خصلت مستقل طورپر سایہ عرش کا مستحق بنانے والی ہے کہ سب کا تقاضا یہی ہے۔''
دل میں حق اورزبان پرسچ :
حضرت سیِّدُناابوادریس عائذ اللہ خولانی علیہ رحمۃاللہ الوالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامنے بارگاہِ رب العزت میں عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! وہ کون ہے جوتیرے سایہ رحمت میں ہوگاجس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ؟''اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:'' جن لوگوں کا میں چرچا کرتا ہوں اور وہ میرا ذکر کرتے ہیں اورجو میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں پس یہی لوگ میرے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔''حضرت سیِّدُناموسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامنے عرض کی: ''اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! حظیرۃ القدس (یعنی جنت)میں تیرے قرب میں کون ہو گا؟''اللہ عَزَّوَجَلّ َنے ارشاد فرمایاـ:'' وہ بندے جن کی آنکھیں زنا کے لئے نہیں اٹھتیں